Monday, 11 March 2013

بے اولادی - بانچھ پن


بانجھ پن یا عقر کا مطلب

بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت میں کمی یا بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت کا نہ ہونا،  بانجھ پن کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے کہ 1سال کے عرصے تک نارمل مباشرت ہوتے رہنے کے باوجود اور مانع حمل ادویات استعمال کئے بغیرحمل قرار نہ پانا ھے۔ بانجھ پن کا شکار مرد بھی ہو سکتا ہے اور عورت بھی اس مرض میں مبتلا ہو سکتی ہے۔ بانجھ پن ابتدائی اور ثانوی دو طرح کا ہوتاھے۔ ابتدائی مطب عمرانیھ پن(Primary Infertility) سے مراد وہ مریض ہیں جن میں پہلے کبھی حمل نہیں ہوا اور ثانوی بانجھ پن (Secondary Infertility) سے مراد وہ مریض جن کے ہاں پہلے حمل واقع ہو چکا ہو جبکہ ایک اور اصطلاح سٹرلٹی(Sterility)سے مراد بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت کا مرد یا عورت میں مکمل طور پر ختم ہو جانا ہے۔ ماضی میں بانجھ پن کے شکار جوڑوں میں بچہ پیدا ہونے کی صلاحیت کم ہوتی تھی مگر آج جدید دور میں مناسب تشخیص اور علاج سے 85فیصد جوڑے بچہ پیدا ہونے کی اُمید کرسکتے ہیں۔ بانچھ پن میں مبتلا جوڑوں کو بہت زیادہ پریشانی اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عورت کے لیے تو بانچھ گالی بن جاتی ہے۔ ایسے جوڑے جن کے ہاں بچہ پیدا نہ ہوا ہوسارے کا سارا قصور عورت کا ہی بن جاتا ہے اور بچہ نہ پیداکرنے پرطعنے ملتے رہتے ہیں اور لعنت ملامت ہوتی رہتی ہے۔ حالانکہ  بانجھ پن کا شکار مرد بھی ہو سکتے ہیں۔ بانجھ پن کی 40فیصد وجوہات مردوں میں پائی جاتی ہیں اور آج کل تو بہت جلد اس کی تشخیص ہو سکتی ہے کہ بانجھ پن کی شکار کو ن ہے مرد یا عورت؟

Conditions For Pregnancy


مرد اور عورت دونوں کا تندرست ہونا بہت ضروری ہے۔ مرد کو سرعت انزال اور ضعف باہ کا مریض نہیں ہونا چاہئے ۔ مرد کی طرف سے اس کے مادہ منویہ (Semen) نارمل اور مناسب جرثومہ منویہ(Spermatozoon) )پیدا ہونے کی ضرورت ہوتی ہے۔سپرم کی صورت حال کچھ اس طرح سے ہونی چاہئے کہ کم ازکم 72گھنٹے کے پرہیز کے بعد مرد میں (حاصل ہونے والے)مادہ منویہ کا تجزیہ کرنے پر مادہ منویہ کی مقدار 1.5ملی لیٹر سے 5ملی لٹر تک ، ایک ملی لٹر مادہ منویہ میں 20ملین یا اس سے زائد سپرم 50سے 60فیصد تک حرکت کرنے والے (Motile) اور 60فیصد سے زائد نارمل شکل و صورت والے سپرم ہونے چاہئیں مر د کو سپرم کی تعداد میں کمی (Oligospermia)یعنی سپرم کی تعداد کا ایک ملی لیٹر میں 20ملین سے کم ہونا یا مادہ منویہ میں سپرم کا موجود نہ ہونا(Azoospermia)کا مریض نہیں ہونا چاہئیے۔’’عورت کو بھی صحت مند اور توانا ہونا چاہئیے ‘‘۔عورت کو ورم رحم، سیلان الرحم، ماہواری کی بے قاعدگی، ہارمونز کے توازن میں خرابی، ماہواری یا حیض کی بندش، یا حیض کی تنگی وغیرہ کا شکار نہ ہونا چاہئیے۔عورت کی طرف سے اس کی میض یا اووری (Ovary)سے ایک مکمل نمو یافتہ اور صحت مند بیضہ (Oocyte)پیدا ہو کر اسے قاذف نالی(Uterine Tube)میں پہنچنے کی ضرورت ہوتی ہے۔عورت میں بیضہ خارج ہونے کے عمل کو عمل تبویض (Ovulation)کہتے ہیں۔ہر ماہ بیضہ ایک یا دوسری اووری سے خارج ہو کر قاذف نالیوں(Fallopian Tubes)میں پہنچتا ہے۔بیضہ خارج ہونے پر عورت کچھ اس طرح کے احساسات کا تجربہ کرتی ہے۔ جسم کادرجہ حرارت 1oFتک بڑھ جاتا ہے۔اگر حمل قرار نہ پائے تو ماہواری آنے تک) 13سے 14دن تک( بڑھتا رہتا ہے۔ چھاتیوں میں بھراؤ اور وزنی پن محسوس کرتی ہے۔ مہبلی(Vaginal)رطوبت کم ہوجاتی ہیں۔معمولی سا محیطی اوذیما(Peripheral Odema) جسکے ساتھ وزن میں معمولی سا اضافہ محسوس ہوتا ہے۔ایسی علامات ان عورتوں میں نہیں پائی جاتی جوبیضہ خارج نہیں کرتی ہیں۔ بیضہ خارج ہونے پر عورت کے رحم کے منہ میں لگے ہونے بلغم کا پلگ پروجیسٹرون (Progesteron)ہارمون کے اثر سے چمکدار اور نرم مخاط میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ ایسا ہو نا ضروری ہوتا ہے تاکہ سپرم آسانی سے رحم کے منہ میں داخل ہو سکے۔ حمل ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ صحبت اس وقت کی جائے جب بیضہ خارج ہو چکا ہو پھر سپرم اور بیضہ کا کامیابی سے ملاپ ہونا چاہئیے اور سپرم کو اس قابل ہو نا چاہئے کہ وہ بیضہ کی بیرونی جھلی کو اپنے خامروں سے توڑ کر بیضہ میں داخل ہو سکے جب بیضہ بار آور (Fertilize)ہو چکا ہو تو اسی دوران نسوانی جنسی ہارمونز ایسٹروجن (Estrogen)اور پروجیسٹرون کے زیر اثر رحم کی اندرونی جھلی بطانہ رحم (Endometrium) کی لائنگ مکمل ہو چکی ہو۔ تاکہ بار آور بیضہ رحم میں پہنچ کر آسانی سے دھنس (Implant) ہو سکے اور یہاں تقریباف 9ماہ اور دس دن اپنی نشوونما جاری رکھے بیضہ کا رحم کے اندر صحیح طرح امپلانٹ نہ ہونے سے ضائع ہو جاتے ہیں۔ اب بانجھ پن کے اسباب کی طرف آتے ہیں۔  بانجھ پن کے مردوں اور عورتوں میں علیحدہ علیحدہ اسباب ہوتے ہیں۔




عورتوں میں 60فیصد اسباب  بانجھ پن کا سبب بنتے ہیں۔جس میں سے 30فیصد اسباب عمل تبویض نہ ہونا یعنی بیضہ خارج نہ ہونا (Anovulation)اور 30فیصد عورت کے تو لیدی اعضاء کی ساختی / تشریحی خرابیاں (Anatomic Defects) شامل ہیں۔ بیضہ کی خارج ہونے کی سب سے عام وجہ پیچوٹری گلینڈ(Pitutary Gland)کے اگلے حصے (Adenohypophsis) سے گونیڈوٹرافک (Gonadotrophic) ہارمونز کا کم خارج ہونا ہے ایسی ماہواری جس میں بیضہ نہ ہو(Anovulatory Cycle) کی شناخت عورت میں پیشاب میں (Pregnanedoil) کی شناخت سے ہوسکتی ہے۔ جو کہ پروجیسٹرون میٹا بولزم کی پیدا وارہوتی ہے۔ عام طور پر بیضہ خارج ہو نے کے وقت عورت کے خون میں پروجیسٹرون کے ارتکاز میں اضافہ ہو جاتا ہے۔حیضی دور کے بعد کے حصے میں پیشاب میں پریگنے نی ڈول کا اضافہ نہ ہونا بیضہ خارج نہ ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے بعد زنانہ بانچھ پن کی ایک اور عام وجہ ورم درون رحم (Endometriosis) ہے اور اس کے بعد پیدا ہونے والی تبدیلیاں عورت کے تولیدی اعضاء کی تشریحی ساخت میں خرابی پیدا کرتی ہیں۔ اینڈومیٹری اوسس میں رحم کے اندر کی طرح کی ساخت جہاں سے حیض خارج ہوتا ہے رحم کے باہر پیٹرو میں بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ حیض کے دوران رحم کی اندرونی اینڈومیٹریم کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے قاذف نالیوں سے گذر کر پیٹرومیں آسکتے ہیں۔ پیٹرو میں اس ساخت پر نسوانی جنسی ہارمونز کے وہی اثرا ت ہوتے ہیں۔ جو رحم کی اندر کی ساخت پر ہوتے ۔رحم میں تو حیض جاری ہو نے کا ایک قدرتی راستہ ہوتا ہے مگرپیٹرو میں چونکہ خون خارج ہونے کا کوئی راستہ نہیں ہوتا اس لئے خون اندرہی جمع ہوتا رہتا ہے۔ پیٹرو میں جریان خون درد کا سبب بنتا ہے اس سے پیٹرو کے اعضاء میں لیفی ساخت (Fibrosis) بننے کو تحریک ملتی ہے۔ اور یہ اوریزکا مکمل (encase) بندکرتا ہے اور بیضہ خارج نہیں ہونے دیتا اینڈو میٹری اوسس کے نتیجے میں پیٹرو کے اعضاء میں باہمی چپکاؤ (Adhesion) واقع ہو جاتا ہے اور قاذف نالیاں بند ہو جاتی ہیں۔ بعض عورتوں میں کسی پیلوک انفلے میٹری ڈزیز (PID) یا سوزاک وغیرہ کے نتیجے میں قاذف نالیاں بند ہو جاتی ہیں انفکشن رحم کے منہ میں لگے ہوئے لیسدار بلغم کی پیدائش کو بھی تحریک دیتا ہے جس کے نتیجے میں سپرم رحم کے منہ میں داخل نہیں ہو پاتے یہ بھی قابل غور بات ہے کہ بہت زیادہ کم عمر اور بہت زیادہ عمر والی خواتین میں بھی حمل قرار نہیں پاتا اگر ویجائنہ کی پی ایچ (PH)بہت کم ہو تو بھی سپرم ایسے ماحول میں زندہ نہیں رہ پاتے اور حمل قرار نہیں پاتا اسکے علاوہ ایسی کریمیں، جیلی اور لبریکنٹس جو سپرم کو ہلاک کردیں۔ ورم رحم (Metritis) یا رحم کی لیفی رسولیاں (Fibroids) کی موجودگی مبیضی کیسے (Ovarian cyst) کی وجہ سے ایک یا دونوں اووریز متاثر ہو سکتی ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ ہارمونز کا توازن برقرار نہیں رکھ پاتی جو کہ ایک فولیکل کے میچور ہونے اور رحم کی اندرونی لائنگ کے لیے ضروری ہوتے ہیں اور ایک متاثرہ اووری ایک صحت مند بیضے کو قاذف نالی میں خارج کرنے میں ناکام رہتی ہے۔ اسکے علاوہ دباؤ (Stress)غذا کی کمی ،وزن کی کمی، وزن کی زیادتی کی وجہ سے ہارمونز کا توازن قائم نہیں رہتا جس سے رحم کی اندرونی لائنگ اور فم رحم کی بلغم متاثر ہوتی ہے۔ مانع حمل (Contracepives) بھی ہارمون کے قدرتی توازن کو غیر متوازن کردیتی ہیں۔ اور ماہواری کو بے قاعدہ کردیتی ہیں۔ ان ادویات کو چھوڑنے کے کافی عرصے بعد تک بھی ماہواری بے قاعدہ رہ سکتی ہے۔ انٹرایوٹرائن ڈیواسز (IUDs) رحم اور قاذف نالیوں میں سوزش اور سیلان الرحم کا سبب بنتی ہیں ۔ جسکے نتیجے میں ورم کے ٹھیک ہونے کے بعد سکارنگ (Scarring)کی وجہ سے نالیاں بند ہوسکتی ہیں۔سگریٹ نوشی بھی تولیدی نظام کے نارمل فعل کو خراب کر سکتی ہے اس سے تولیدی اعضاء میں خون کی سپلائی کی کمی اور قاذف نالیوں کے اندر لگے ہوئے بال نما ابھار (Cilia) کی حرکت متاثر ہوتی ہے ان بال نما ابھاروں کی حرکت سے بیضہ کو قاذف نالیوں میں حرکت کرنے اور آگے جانے میں مدد ملتی ہے۔ بواسیر الرحم (Polyps) یاکسی جراحی کے نتیجے میں رحم کی خرابی، رحم نہ ہونا، رحم کا میلان خلفی(Retoversion)بھی بانچھ کا سبب بنتے ہیں۔ کیفین کا لگا تار استعمال تھائرائیڈ گلینڈ کے فعل میں کمی غذائی اجزاء مثلاً وٹامن B12, E, A, B2, B6زنک (Zinc) فولک ایسڈ ضروری امینوترشے میگنیشیم کی کمی جو فرٹیلٹی کے لیے ضروری ہیں۔ دباؤ نہ صرف ہارمونز کے توازن کو خراب کرتا ہے بلکہ قاذف نالیوں کے سکڑنے کا سبب بھی بنتا ہے جس سے بیضے کو ان نالیوں سے گذرنے میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے اور پیٹرو میں خون کی سپلائی کی وجہ سے رحم کی اندرونی لائنگ بھی متاثر ہوتی ہے اور ویجائنہ کے سکڑنے سے سیکس کاعمل بھی متاثر ہوتا ہے۔



مردوں میں تولیدمادہ منویہ کے مسائل 40فیصد سے زائد  بانجھ پن کی وجوہات کا سبب بنتے ہیں سپرمیٹوجینیسز سپرم بننے یا سپرم کی نشوونما کو کہتے ہیں۔ عورتوں کے بیضہ (Ovum) سے بالکل مختلف جو کہ ہر ماہ عورتوں میں وقفے سے اووریز سے خارج ہوتا رہتا ہے۔ سپرم خصیوں کی بشرہ جرثومیہ(Germinal Epithelial) سے لگاتار تیار ہوتے رہتے ہیں۔جرمینل ایپی تھیلیل سے سپرم اغدیدیوس (Epidermic) میں خارج کرد ئیے جاتے ہیں جہاں پر انزال سے پہلے سپرم میں میچوریشن ہوتی ہے ۔ سپرم کی نسل تیار ہو نے میں تقریباً 73دن لگتے ہیں۔ اس لیے سپرم کی ابنارمل تعداد ان واقعات کاریفلیکشن ہوتی ہے۔ جو سپرم اکھٹا کرنے سے پہلے 73دن میں واقع ہوتے ہوں۔سپرم کی پیداوار میں تبدیلی کا مشاہدہ کرنے کے لیے کم از کم 73دن کی ضرورت ہوتی ہے۔ سپرم کی پیداوار تھرموریگولیٹڈ(Thermoragulated) ہے یعنی حرارت سے کنٹرول ہوتی ہے ۔خصیوں کے اندر حرارت خصیوں کی تھیلی صفن (Scrotum) کے پھیلنے اور سکڑنے سے کنٹرول ہوتی ہے۔ سپرم کی پیدائش تقریباً 1oFپر ہوتی ہے۔خصیوں کے لیے بیرونی حرارتی صدمہ سپرم کی پیدائش میں کمی کا سبب بن سکتا ہے مثلا بہت زیادہ گرم ہاتھ خصیوں کے اوپر بڑی دیر تک بیٹھے رہنا جس سے حرارت وہاں جمع ہوتی ہے۔ اور منتشر نہیں ہوتی ٹائیٹ زیر جامہ پہننا جس سے خصیوں کی حرارت بڑھ جائے خصیے زیادہ دیر تک سامنے پیٹرو کی طرف رہیں۔ خصیوں کو پہنچنے والے صدمے،انفکشن ورم خصیہ(Orchitis)کن پیڑے(Mumps) ورم البربخ (Epididymitis)خفاء الخصتین (Cryptozoic) یعنی پیدائشی طور پر یہ خصیوں کا پیٹ میں رہ جانا دوالی الصفن( Varicolored کیمیکلز سے ایکسپوز ہونا، ہارمون کے توازن میں خرابی، تیز بخار کیفین بھنگ(Marijuana) الکوحل کا استعمال وغیرہ وزن بہت زیادہ ہونا بہت کم ہونا۔ ماحولیاتی فیکٹرز (اثرات) ریڈی ایشن پوائزنگ سے خصیے فیل ہوجاتے ہیں۔ سیسہ اور کیڈ میم پوائزنگ کیمو تھراپی ادویات کا استعمال اینا بولک سٹیرائیڈز ، سمی ٹی ڈین، سپائیرونولیکٹون سے سپرمیٹو جینیسز کاعمل متاثر ہوتا ہے۔ فینی ٹوئن ایف ایس ایچ ہارمون کا درجہ کم کرتی ہے۔ سلفاسیلازین اور نائیٹرو فیورنٹوئن سے سپرم کی حرکت متاثر ہوتی ہے۔ کسی جراہی ہرنیا وغیرہ کے اپریشن کے بعد خصیوں میں خون کی سپلائی کی خرابی صحبت کے وقت لبریکنٹس کا استعمال سے سپرم ہلا ک ہوجاتے ہیں۔جس طرح عورتوں میں اووریز کے کیسے جہاں سے بیضہ خارج ہوتا ہے ایف ایس ایچ اور ایل ایچ ہارمونز کو رسپونڈ کرتے ہیں اسی طرح مردوں میں خلیات (Leading Cells ) اور خصیوں کی جرمینل ایپی تھلیل بھی (Gonadotrophins) کی تحریک کو رسپونڈ کرتے ہیں بعض مردوں میں جرمینل ایپی تھلیل میں فائبروسس ہوجاتا ہے اور سپرم کی پیداوار متاثر ہوتی ہے۔ اور بعض مردوں میں (Leading) خلیات سے ہارمون ٹسٹوسٹی ران کی تراوش کم ہوجاتی ہے۔ جس سے بھی سپرم بننے کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ اولیگو سپر میا کے مریضوں میں گو نیڈوٹروفن کی پیمائش ہونی چاہییے۔ تاکہ خصیوں کے فیل ہونے کا پتہ چلایا جاسکے۔خصیوں کے ناکام ہونے میں شکوک و شبہات خصیوں کی بائی اوپسی (Biopsy)سے دور ہوسکتے ہیں۔ غدہ قدامیہ کی سوزش ماد منویہ کو خصیوں سے لانے والی نالیوں میں رکاوٹ ،پس خرام (Retrograde) انزال جس میں مادہ منویہ پیچھے کی طرف مثانے میں خارج ہوجائے بھی مردانہ بانچھ پن کا سبب بنتے ہیں۔مرد اور عورت دونوں اینٹی سپرم اینٹی باڈیز پیدا کرتے ہیں اگر عورت اینٹی سپرم اینٹی باڈیز پیدا کرے تو سپرم فم رحم کی بلغم میں بے حرکت ہو جاتے ہیں اگر مرد اینٹی سپرم اینٹی باڈیز پیدا کرے جو کہ 3سے 20فیصد بانچھ پن کا شکار مرد کرتے ہیں تو سپرم اکٹھے (Agglutinate)ہوجاتے ہیں اور فم رحم کی بلغم میں داخل نہیں ہو پاتے ناکام ہوجاتے ہیں اینٹی سپرم اینٹی باڈیز کی تشخیص سپرم کے تجزئیے کے ایک حصے کے طور پر دونوں پارٹنرز کے امنیاتی (Immunologic)مطالعے سے ہو سکتی ہے۔مردوں میں ابھی تک اینٹی سپرم اینٹی باڈیز کا کوئی موثر علاج نہیں ہے اس کے علاج میں سپرم کو بلاواسطہ فم رحم یا رحم میں داخل کیا جاتا ہے۔ مردوں میں بھی دباؤ(Stress) کے نتیجے میں تولیدی اعضاء میں خون کی سپلائی متاثر ہوتی ہے ۔جس میں نارمل جنسی فعل میں کمی اور جنسی پرفارمنس ٹھیک نہیں رہتی ۔ چند جوڑوں میں ان کے  بانجھ پن کے لیے کوئی بھی حیاتیاتی تشریح نہیں طبیبوں کو مریضوں کے وزن اور لائف سٹائل کو ضرور مدِنظر رکھنا چاہیے۔اور مردوں اور عورتوں میں کاز تلاش کرکے علاج کرنا چاہئیے۔



غذائی تدبیریں
DIET PLANS


ویجائنہ اور فم رحم کی پی ایچ کو نارمل رکھنے کے لیے کھاری (Alklaine) غذاؤں کا مناسب استعمال کرنا چاہئے۔ ویجائنہ میں تیزابیت کی زیادتی سپرم کو ہلاک کردیتی ہے۔ زیادہ تر خوراکیں مثلا پھل، سبزیاں ، دودھ وغیرہ الکلائن ہیں ۔ گوشت ، مچھلی تما م اناج پنیر انڈے بیج وغیرہ تیزابی ہیں چائے ،کافی اور الکوحل سارے نظام کو تیزابی(Acidic) کرتے ہیں۔ اپنے وزن کو مناسب رکھنے کی کوشش کریں۔بہت زیادہ ورزش اور ڈائٹنگ سے وزن کم ہوجاتا ہے اورعمل تبویض رُک سکتی ہے۔ ضروری امنیو ترشوں پر مبنی اغذیہ کا استعمال کریں ۔غیر ریفائنڈ سبزیاں ، بیجوں کا تیل میوے(Nuts) بیج، پھلیاں ،مٹر، چربیلی مچھلی ایوننگ پرائمروز آئل، السی کا تیل، تخم گاؤزبان کا تیل وغیرہ اسکے اچھے ذرائع ہیں۔ وٹامن ای (E)جو کہ فرٹیلی کے لیے بہت ضروری ہے اسلئے ایسی غذائیں کھائیں جو وٹامن ای مہیا کریں۔ نٹس ،بیج ،دودھ اور دودھ وغیرہ کی مصنوعات،چنوں وغیرہ میں وٹامن ای (E) موجود ہوتا ہے ۔ اسکے علاوہ اناج ، چنے ، سبز پتوں والی سبزیاں ،سویابین وغیرہ میں وٹامن ای موجود ہوتا ہے۔اسی طرح پروٹین پر مشتمل اغذیہ ، وٹامن اے ، سی اور وٹامن بی نمکیات خاص طور پر زنک ، آئرن ، میگنیشم وغیرہ کا استعمال کریں۔ کافی اور الکوحل جو کہ مذکورہ غذائی اجزاء کے فوڈ سپلیمنٹ بھی استعمال کئے جاسکتے ہیں۔

غیر ضروری ادویات جیسے بھنگ(Marijuana)جو کہ سپرم کی تعداد کم کرنے والی جانی جاتی ہے سے پرہیز کریں۔ چر بیلی اغذیہ ، الکوحل، تمباکو نوشی، نشہ آور ادویات وغیرہ سے پرہیز کریں۔مراقبہ (Meditation)مشاورت ، نفسیاتی طریقہ علاج او ر سکون پہنچانے والی ورزشیں، یوگا، ہیپنوتھراپی سے فائدہ ہوسکتا ہے ۔ٹھنڈے غسل سپرم کی کم پیداوار میں مدد گار ہو سکتے ہیں مگر عورتوں میں حیض کی پرابلمز پیدا کر سکتے ہیں واضح طور پر حمل ہونے کا وقت عمل تبویض کے قریب ہوتا ہے اس ہفتے میں صرف 2یا 3دفعہ پیار کریں زیادتی سے قوت میں کمی اور سپرم کی تعداد میں کمی ہوجاتی ہے ۔ عام طور پر کوشش کریں کہ عمل تبویض (Ovulation) تک پرہیز رہے اس سے نہ صرف انرجی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ سپرم کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔ اور عین وقت پر سپرم کے بیضے سے ملنے پر حمل کے چانسز بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ مردوں کو اپنے خصیے ٹھنڈے رکھنے چاہئے۔

 بانجھ پن سے نمٹنے کے لیے اپنی مدد آپ کیا ہوسکتی ہے؟

مرد اور عورت جس قدر ہو سکے اپنی صحت کو ٹھیک رکھنے کی کوشش کریں۔ پرانے انفکشنز کا مکمل علاج کروانا چاہئے ۔ عورتوں کو ورم رحم، سیلان الرحم، حیض کی بندش ، حیض کی باقاعدگی وغیرہ کا علاج کروانا چاہیے۔ مردوں کو ان تمام اسباب سے حتی الامکان اپنے آپ کو بچانا چاہئیے جو سپرم بننے کے عمل کو متاثر کرتے ہیں کہ تاکہ سپرم کی تعداد میں اس قدر اضافہ ہو سکے کہ حمل ہو جائے ۔ ریگولر ورزش کریں مگر حد سے نہ بڑھیں کہ ہارمونز غیر متوازن ہو جائیں اگر آپ ٹنس، تھکاوٹ محسوس کرتے ہیں۔ اپنے آپ کو بیمار محسوس کرتے ہیں۔ یا یوں سمجھ رہے ہوں کہ آپ کی صحت گر رہی ہے تو اپنے طبیب سے ملیں مرد اور عورتیں  بانجھ پن کے اسباب کو سمجھیں اور اسباب سے دور رہیں جہاں تک بانجھ پن کا تعلق دباؤ یا کسی نفسیاتی وجہ سے ہے تو اسکا علاج کروائیں۔ ڈھیلے کپڑے پہنیں ٹائٹ انڈر پینٹ کی نسبت باکسر شورٹس پہنیں گرم باتھ اور برقی کمبل سے پرہیز کریں۔ عورتیں کو اس بات کا یقین کرلینا چاہئے کہ ماہواری ریگولر ہے یعنی ہر ماہ وقت پر آتی ہے تا کہ وہ اپنے مردوں کو بتا سکیں کہ عمل تبویض کب متوقع ہے۔ عام طور پر حیض آنے سے 14دن پہلے عمل تبویض ہوتا ہے۔ مگر یہ شرط ان عورتوں کے لیے ہے جن کی ماہواری ریگولر ہے اور تقریباًدَور 28دن کا ہو۔اور عمل تبویض پرصحبت کر کے بہترین نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ جب بیضہ قاذف نالیوں میں آتا ہے تو بیضہ 48گھنٹوں تک زندہ رہ سکتا ہے اگرچہ حمل ہونے کے زیادہ چانسز پہلے 24گھنٹوں میں ہوتے ہیں سپرم بیضہ سے زیادہ دیر تک زندہ رہ سکتا ہے ۔ مناسب ماحول ملے تو تین تقریبادن تک ۔تاہم زیادہ ترسپرم بیضے میں دھنسے اور آسے بار آور کرنے کے قابل صرف پہلے دو دنوں کے درمیان ہوتے ہیں۔اس دوران کسی بھی وقت بار آور ی ہو سکتی ہے۔ سپرم کو اس چیز کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ ویجائنہ میں بہت آگے جاکر خارج ہوں اور وہاں کم ازکم 1/2گھنٹے تک موجود رہیں اس کے لیے قضیب کو ویجائنہ میں بہت اندر تک پے نی ٹریٹ کرنا چائیے اور عورتوں کے لیے یہ بہترین ہے کہ بعد صحبت فوراً سیدھا کھڑا ہونے ،چلنے پھرنے ، پانی استعمال کرنے، پیشاب کرنے سے پرہیز کریں۔ بعد صحبت گھٹنے اوپر کر کے اور ٹانگیں اکھٹی کر کے سیدھے۔ لیٹے رہیں یہ سپرم کا ویجائنہ میں سفر شروع کرنے کے لیے ساز گار طریقہ ہے۔






بانچھ پن یا بے اولادی میں مبتلا خواتین کے لئے درج زیل یونانی مرکبات میں سے ادویات استعمال کی جا سکتی ہیں۔ معجون دبیدالورد ، عرق مکو ، معجون موچرس ، معجون معین حمل ، معجون سپاری پاک ، معجون سہاگہ سونٹھ ، سفوف حمل ، دوائے حمل ، حب استقرار حمل ، حب محافظ جنین ، معجون حمل عنبری ، معجون حافظ الجنین نشارہ عاج والی ، سپا ری پاک ویدک ، حب حمل ، مرہم داخلیون ، سفوف لودھ ، اکسیرنسواں ، مستورین ، حمول عقر وغیرہ۔ یہ ادویا ت محلل اورام ، مقوی رحم ، حابس الدم ، حافظ الجنین یا جنین(Embryo) کی حفاظت کرنے والی خصوصیات کی حامل ھیں۔

بانچھ پن یا بے اولادی میں مبتلا مرد حضرات کیلئےمردانہ طاقت ، چستی ، توانائی ، مادہ منویہ کو گاڑھا (Semen Thickening) ، مادہ منویہ کے جراثیم(Spermatozoon- Sperms) کو بڑھا نےکیلئے ، امساک کو بڑھانے کے لئے صرف مستند ، قابل اور تجربہ کارطبیب
مطب عمرانیھ



مطب عمرانیھ میں  بانجھ پن یا بے اولادی کا علاج خاندانی مجربات اور ذاتی تحقیق سے تیار کردہ خاص قیمتی ادویات سے کیا جاتا ہے۔

 F.T.J  D.H.M.S 
Consultant Herbal & Homoeopathic Medicine 

1 comment: